بھٹکل،11؍ستمبر (ایس او نیوز) گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لئے نکلی ہوئی ’قمرالبہار‘ کشتی کا انجن نہترانی جزیرے کے پاس بند پڑگیا اور سمندر میں طوفانی ہواؤں اور تیز لہروں کی وجہ سے کشتی پر موجود 24افراد کو زبردست خطرہ لاحق ہوگیا۔ مگر انڈین کوسٹ گارڈس نے بروقت ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے کشتی اور اس پر سوار تمام لوگوں کو بحفاظت ساحل تک لانے میں کامیابی حاصل کی۔
بتایا جاتا ہے کہ بھٹکل کے نوشاد خان کی ملکیت والی یہ ماہی گیر کشتی بھٹکل بندرگاہ سےبدھ کے دن دو پہر 2بجے سمندر میں مچھلی کے شکارکے لئے نکلی تھی۔لیکن جمعرات کےدن 2بجے کے قریب کشتی کے انجن میں خرابی پیدا ہوگئی اور وہ بالکل ناکارہ ہوگیا۔
سمندرمیں خراب موسم کی وجہ سے کشتی پر سوار لوگوں کے لئے یہ ایک گھبراہٹ بھرا اور خوفناک مرحلہ بن کر سامنے آیا۔ کشتی میں پھنسے ہوئے نوجوانوں نے مدد کے لئے کوسٹ گارڈس اور کوسٹل پولیس سے رابطہ قائم کیا۔
انڈین کوسٹ گارڈ ٹیم آئی حرکت میں : اس کے بعدکل رات کو منگلورو سے انڈین کوسٹ گارڈ کی ٹیم ڈپٹی کمانڈنٹ آکاش شرما کی قیادت میں ایک بوٹ پر ریسکیو آپریشن کے لئے روانہ ہوئی۔ پھر نیترانی جزیرے کے قریب پہنچ کرکوسٹ گارڈ نے مصیبت میں پھنسی کشتی اور اس میں پھنسے ہوئے نوجوانوں کی رات بھر اپنی بوٹ سے نگرانی کرتے رہے۔اس کے بعد صبح دن چڑھتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا اور بگڑے ہوئے انجن والی کشتی کو بیچ سمندر میں اسی مقام پریونہی چھوڑ کراس پر موجود تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لائی ہوئی دوسری بوٹ پر اتار لیا۔پھر ان سب کو بحفاظت ساحل کی طرف لانے کی کارروائی شروع کی گئی۔
شہر میں تشویش کی لہر: خراب موسم کے دوران بھٹکل کی ماہی گیر کشتی اور نوجوان گہرے سمندر میں پھنس جانے کی خبر عام ہوتے ہی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ کشتی کے مالک نوشاد خان اور عنایت اللہ شاہ بندری سمیت تنظیم کے کئی ذمہ داران کے علاوہ ماہی گیر فیڈریشن کے صدر گنپتی مانگرے نے مختلف سماجی، سیاسی اور سرکاری ذمہ داران سے مسلسل رابطہ قائم کیاتھااور جلد سے جلد ریسکیو آپریشن شروع کروانے کے لئے ہرممکنہ کوششیں کی گئیں تھیں۔ پھر جب سمندری خطرے سے بچائے گئے نوجوانوں کو کوسٹ گارڈس کی نگرانی میں کاروار بندرگاہ لے جانے کی خبر ملی تو بھٹکل سے کشتی کے مالک نوشاد خان اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ ، عنایت اللہ شاہ بندری،عتیق الرحمان منیری، صادق مٹا سمیت تنظیم کے بہت سارے ذمہ داران بھی وہاں پہنچ گئے۔
کامیاب ریسکیو آپریشن: بالآخر گہرے سمندر میں خراب موسم اور اَن دیکھے خطرات کے بیچ تقریباً ایک دن اور ایک رات انتہائی ذہنی کرب اور خوف میں گزارنے کے بعد تمام 24 افراد کو اس وقت راحت ملی جب آج جمعہ دوپہر تقریبا 2بجےتفتیش اور ضابطے کی کارروائی کے لئے کوسٹ گارڈ س کی ٹیم ان سب کو کاروار بندرگاہ لے گئی۔کاروار بندرگاہ پہنچنے کے بعد کشتی اور نوجوانوں کی دستاویزی شناخت اور جانچ کی کارروائی انجام دی گئی ۔پھر ان سب کو گھر جانے کی اجازت دی گئ
ماہی گیر فیڈریشن صدر کا بیان: اس موقع پر ماہی گیر فیڈریشن کے صدر گنپتی مانگرے نے کہا کہ بھٹکل ، ہوناور اور کاروار وغیرہ میں خراب موسم کی وجہ سے سمندر میں پھنس کر کشتیوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات بڑ ھ گئے ہیں۔ یہ کشتی بھی محکمہ موسمیات کی طرف سے خراب موسم کی پیشن گوئی سے پہلے ماہی گیری کے لئے نکلی تھی۔ اب اس کو یونہی سمندر میں چھوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کشتی بچانے کی مہم شروع کیے جانے تک اس کونقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اس لئے کشتی کو کسی بھی قسم کا نقصان ہونے پرحکومت کی طرف سے معاوضہ اداکیا جانا چاہیے۔
کوسٹ گارڈز آفیسر کا تاثر : اس موقع پر کوسٹ گارڈز ریسکیو ٹیم کے ایک آفیسر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہنگامی صورتحال میں کام آنے والا ایک بھی لائف جیکیٹ کشتی میں موجود نہیں تھا، جبکہ یہ ایک انتہائی لازمی اور ضروری چیز ہے جس سے غفلت نہیں برتی جانی چاہیے.
کیا کہتے ہیں نوشاد خان : کشتی کے مالک نوشاد خان نے کہا کہ ’’ہمارے لئے کشتی پر موجود لوگوں کو حفاظت کے ساتھ ساحل پر لا نا سب سے پہلی ترجیح تھی۔ کوسٹ گارڈ نے ریسکیو آپریشن شروع کرنے سے قبل کشتی کو سمندر میں یونہی چھوڑ نے اور صرف اس پر موجود لوگوں کو بچانے کی کارروائی کرنے کی تحریری ا جازت ہم سے لے لی تھی۔ اب چونکہ سمندرمیں طوفانی موسم ہے اس لئے دوسرے ماہی گیر کشتی کو ساحل تک لانے کی کارروائی کے لئے فوری طور پر رضامند نہیں ہوئے۔ اب نہ معلوم ہواؤں کے سہارے وہ کشتی کہاں سے کہاں پہنچ جائے گی یا پھر ا س کے ساتھ جانے کیا معاملہ ہوجائے۔ لیکن ہمارے نوجوان بحفاظت واپس گھر پہنچ گئے ہیں اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ کشتی کے تعلق سے کل پرسوں کوئی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ‘‘
شہر کے تمام ذمہ داران نے سمندر کے خطرات سے بچ کرنوجوانوں کےبحفاظت کنارے پہنچنے پر تسلّی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اس کے علاوہ ضلع انتظامیہ ، پولیس اور کوسٹ گارڈ س کی بروقت کارروائی کے لئے ستائش اور تشکر کا اظہار کیا گیا ہے۔